کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
یہ مدرسہ، یہ جواں، یہ سرور و رعنائی
انہیں کے دم سے ہے میخانۂ فرنگ آباد
نہ فلسفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت! وہ اندیشہ و نظر کا فساد
فقیہہِ شہر کی تحقیر! کیا مجال میری!
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرت پرویز
خدا کی دین ہے سرماےۂ غمِ فرہاد
کئے ہیں فاش، رموزِ قلندری میں نے
کہ فکرِ مدرسہ وہ خانقاہ ہو آزاد!
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصانہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد
Zabardast Upload.
maryamiffat2 11 months ago
کمپوزیشن اچھی ہے
ahmadtaus 11 months ago
waahwah MashaAllah
aabj00 11 months ago