زندگی کے میلے میں،
خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے،
بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے،
سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی
ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب
دو گھڑی میں ہوتی ہیں
درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں،
بے شمار موتی ہیں!
آنکھ کے دریچے میں
تم نے جو سجایا تھا
بات اس دیئے کی ہے
بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں
چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے،
بات رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں
گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو
اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ
ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں،
اس قدر جھمیلے میں
Arey waah.. yeh kab upload kiya?
Bohat achhey lag rahe ho, Mashallah.
Inaam2 1 year ago
:-)
Ahmad aur Tauseef
Bohat hi khooshi howi
welcome back Ahmad to uploading again
Looking forward to rare beautiful gems
Tauseef ki toh tareef jitni ki jaye woh kaam hai
Inteqaab kis ka hai jo parha ja raha hai?
@};- pesh kar saktay hain ap dono ko
n2asa5591 1 year ago
wah ge wah
keya kehney
yousafmalik2009 1 year ago