Alert icon
We're changing our privacy policy. This stuff matters.  Learn more  Dismiss

Mukhtasar al Quduri part 55 full _ مختصر القدوري الجزء 55 الکامل.wmv

Loading...

Sign in or sign up now!
Alert icon
Upgrade to the latest Flash Player for improved playback performance. Upgrade now or more info.
43 views
Loading...
Alert icon
Sign in or sign up now!
Alert icon

Uploaded by on Dec 10, 2011

to download mp3 forma:t http://www.mediafire.com/download.php?u3lqacpecliy6a8
muhammadbin12@facebook.com
omerkhalid67(skype)

http://www.darsequran.com
http://www.quranflash.com/en/download/index.html (for computer flash quran)
http://www.shaplus.com/free-quran-software/quran-for-mobi... (for mobile java quran) ﴾http://www.shaplus.com/exes/jar/Quran1.01.jar﴿

for islamic education on facebook like this page
http://www.facebook.com/pages/%D8%A7%D9%84%D8%A5%D8%B3%D9...
امام قدوری کا نام: احمد ، کنیت ابوالحسین ، اور والد کا نام محمد ہے ۔ پورا شجرہ نسب یوں ہے ۔ ابوالحسین احمد بن ابو بکر محمد بن احمد بن جعفر بن حمدان بغدادی قدوری۔
ولادت: امام قدوری رحمة اﷲ علیھ سن ۳٦۲ھ میں شہر بغداد کے اندر پیدا ہوئے۔ آپ چوتھے طبقے کے فقھاء کبار میں سے بڑے جلیل القدر اور محدث تھے۔
اپ کی کنیت کی تحقیق: مختصر القدوری کے اکثر نسخوں میں آپ کی کنیت ابوالحسن آئ ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ آپ کی کنیت ابوالحسین ہے جیسے کہ تاریخ ابن خلکان، مدینة العلوم، اور انساب سمعانی وغیرہ میں ہے۔
قدوری نسبت کی تحقیق: ابن خلکان نے تاریخ وفیات الٲعیان میں ذکر کیا ہے کہ قدوری قاف اور دال کے پیش کے ساتھ اور واو کے سکون کے ساتھ جو قدر بمعنی ہانڈی کی جمع ہے لیکن مجھے اس نسبت کا سبب معلوم نہیں ۲۔ صاحب مدینہ علوم فرماتے ہیں قدوری کی نسبت دیغ سازی کی طرف ہے ہعنی وہ اسکے خریدو فروخت کا کام کرتے تھے۔ ۳۔ قدور اس گاؤں کا نام ہے جہاں کے امام قدوری باشندے تھے۔
تحصیل علم امام قدوری نے علم فقہ اور علم حدیث رکن الاسلام ابو عبداللہ محمد بن یحییٰ بن مہدی جرجانی متوفی 318ہجری سے حاصل کیا جو امام ابو بکر احمد جصاص کے شاگرد ہیں اور ابو بکر جصاص ، شیخ ابو الحسن عبید اللہ کرخی کے شاگرد ہیں اور امام کرخی شیخ ابو سعید بروعی کے خوشہ چیں ہیں اور ابو سعید بروعی، علامہ موسیٰ رازی کے فیض یافتہ ہیں اور علامہ موسیٰ رازی امام محمد شیبانی کے علم پروردہ اور مائہ ناز فرزند ہیں، گویا امام قدوری نے پانچ واسطوں سے امام محمد شیبانی سے علم فقہ حاصل کیاہے۔
امام قدوری کے تلامذہ: ١۔ابو بکر بن احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی۔ ۲۔صاحب تاریخ قاضي القصاة ابو عبد اﷲ محمد بن علی بن محمد دامغانی۔ ۳۔ قاضی مفضل بن مسعود بن محمد بن یحيی بن ابی الفرج التنوخي المتوفی 443ھ اخبار النحویین وغیرہ
نے آپ سے علم حاصل کیا
امام قدوری کی توثیق: خطیب بغدادی فرماتے ہیں میں نے سے حدیث لکھی ہے، آپ صدوق تھے اور حدیث کی روایت کم کیا کرتےتھے
کان فقیھا صدوقا انتھت الیھ ریاسة اصحاب ابي حنیفة بالعراق وعز عندھم قدرہ وارتفع جاھھ وکان حسن العبارة فی النظر مدیما لتلاوة القرآن ،،،، آپ فقیہ اور صدوق تھے کی وجہ سے عراق میں ریاست مذھب حنفیہ انتھاء کو پہنچ گئ اور آپ کی قدرہ منزلت ہوئ اور آپ کی تقریر میں بڑی دلکشی تھی اور آپ ہمیشہ قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
اھل کمال کی قدر دانی: اختلاف عقائد اور جزئیات مسائل کے اختلاف کے باوجود مخالفین سے حسن سلوک اور اھل کمال کی قدر دانی ہمارے اسلاف کا عال طریقہ تھا، امام قدوری اور شیخ اسفاری شافعی کے مابین ہمیشہ علمی اور حدیثی مناظرہ چلتا رہا لیکن اس کے باوجود امام ان کی بہت زیادہ تعظیم کیا کرتے تھے۔
وفات: قدوری نے شہر بغداد میں عمر 66 سال اتوار کے روز 5 رجب 428 ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہا اور اسی روز"درب ابی خلف" میں مدفون ہوئے ۔ اس کے بعد آپ کی نعش کو شارع منصور کی طرف منتقل کر دیا گیا ۔ اب آپ ابو بکر خوازمی حنفی کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔

  • likes, 0 dislikes

Link to this comment:

Share to:
see all

All Comments (0)

Sign In or Sign Up now to post a comment!
Loading...

Alert icon
0 / 00Unsaved Playlist Return to active list
    1. Your queue is empty. Add videos to your queue using this button:
      or sign in to load a different list.
    Loading...Loading...Saving...
    • Clear all videos from this list
    • Learn more