Dengue ka bad abb Kango Virus YA ALLAH hum pher Rehem karna

Loading...

Sign in or sign up now!
Alert icon
Upgrade to the latest Flash Player for improved playback performance. Upgrade now or more info.
2,056
Loading...
Alert icon
Sign in or sign up now!
Alert icon

Uploaded by on Sep 17, 2011

............. ڈ ینگی کیبعد اب کا نگو وائرس کے خدشات ..............

کانگو وائرس کا پورا نام کریمین۔ کانگو ہموریجک فیور (Crimean.Congo Haemorrhagic Fever) ہے، جسے مختصراََ سی سی ایچ ایف کہا جاتا ہے یہ بنیادی طور پر جانوروں کی بیماری Zoonosis ہے، اور یہ زیادہ تر بھیڑ بکریوں کے بالوں میں چھپے ہوئے پسووں میں پایا جاتا ہے، اس پِسو کو ٹِک (tick) بھی کہتے ہیں۔ جب یہ پسو بھیڑ بکری یا انسانوں کا کاٹ لے تو پھر یہ وائرس متحرک ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ یہ وائرس متاثرہ جانور کے خُون کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے،

مثلاََ اگر قصاب جانور ذبح کرتے ہوئے احیتاط نہیں کرتا اور اس کے ہاتھ پر کٹ لگ جاتا ہے تو اس طرح متاثرہ جانور کے خُون سے مخصوص وائرس اس کے جسم میں داخل ہو جائے گا۔ اس لیے مویشیوں کے زیادہ قریب رہنے والے افراد جیسے مویشیوں کے بیوپاری، زرعی کارکن، قصاب، جانوروں کے ڈاکٹر اور ان کے وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کا علاج کرنے والے یا ان کے لواحقین جلد اور آسانی سے اس وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ یہ وائرس مریض کے خُون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے۔

عید الاضحیٰ کی آمد میں ڈیڈهه مہینہ باقی هے ہمارے ہاں یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو محلے کے بچے جلوس کی شکل میں گھماتے ہیں اور ویسے بھی کئی لوگ عید قربان سے بہت پہلے جانوروں کو اپنے گھروں میں لے آتے ہیں اور بچے ان کے ساتھ کھیل تماشا کرتے ہوئے ان کے بہت زیادہ قریب آ جاتے ہیں، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بچوں کی قوتِ مدافعت بہت کمزور ہوتی ہے اور ان میں کسی بھی بیماری کے جراثیم بہت جلد سرایت کر جاتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کی آمد اور ایک بار پھر اس وباء کا پھیلنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے میں وہ مویشی شامل ہیں جو دوسرے علاقوں سے بیچنے کے لیے لائے جاتے ہیں۔

کانگو وائرس دُنیا کے جن علاقوں میں پایا گیا ہے ان میں افریقہ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ شامل ہیں۔

................................ کانگو وائرس کی علامات ..............................

کانگو وائرس عموماََ جسم میں داخل ہونے کے بعد 14 دن کے اندر اندر علامات ظاہر کر دیتا ہے، اور عموماََ مریضوں میں جو علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں:

1۔ ابتدا میں معمولی بخار کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔

2۔ عموماََ مریض پٹھوں میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔

3۔ گردن میں درد اور کھنچاو کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

4۔ بخار کے ساتھ مریض کو شدید کمر درد کی شکایت ہوتی ہے۔

5۔ متلی، قے اور گلے کی سوزش بھی نمایاں علامات ہیں۔

6۔ متلی قے کے بعد مریض کو پیٹ میں شدت کا درد اٹھتا ہے اور دست لگ جاتے ہیں۔

7۔ مرض کے کچھ دن رہنے کے بعد مریض کا مُوذ بدلنے لگتا ہے اور عموماََ مریض غضب ناک ہو جاتے ہیں۔

8۔ پیٹ کا درد عموماََ دائیں طرف بالائی حصے میں ہوتا ہے۔

9۔ مریض کا جگر بڑھا ہوا ہوتا ہے۔

10۔ بیماری کے پانچویں دن مریض کا جگر، گردے اور پھیپھڑوں کا فعل متاثر ہونے لگتا ہے۔

11۔ خُون کا جائزہ لینے سے پلیٹ لیٹس کی تعداد میں کمی آ جاتی ہے اور خُون میں جمنے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔

12۔ مریض کی جِلد کے مساموں سے خُون رِسنے لگتا ہے خاص کر مسوڑھوں، ناک اور اندرونی اعضاءسے خُون خارج ہونے لگتا ہے۔

Category:

News & Politics

Tags:

License:

Standard YouTube License

  • likes, 0 dislikes

Link to this comment:

Share to:
see all

All Comments (0)

Sign In or Sign Up now to post a comment!
Loading...

Alert icon
0 / 00Unsaved Playlist Return to active list
    1. Your queue is empty. Add videos to your queue using this button:
      or sign in to load a different list.
    Loading...Loading...Saving...
    • Clear all videos from this list
    • Learn more