Alert icon
We're changing our privacy policy. This stuff matters.  Learn more  Dismiss

reality

Loading...

Sign in or sign up now!
Alert icon
Upgrade to the latest Flash Player for improved playback performance. Upgrade now or more info.
111 views
Loading...
Alert icon
Sign in or sign up now!
Alert icon

Uploaded by on Apr 12, 2009

سافرانِ رہِ وفا کو شہید منزل دکھا گئےہیں

کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں

حیاتِ مسلم کا فلسفہ ہے برائے معبود جینا مرنا

رضائے حق میں رضا کے پیکر حیات ابدی کو پا گئے ہیں

شہید کا خون قومِ مردہ کے تن میں ہے ایک روحِ تازہ

سلام ہے ان کی عظمتوں کو جو مر کے جینا سکھا گئے ہیں

شہید تخریب کی قضا ہے شہید تعمیر کی بِنا ہے

اٹھا کے تہذیب نیکیوں کی دہر کے فتنے مٹا گئے ہیں

شہید کے خون نے ہمیشہ غلامیوں کے حصار توڑے

الجھ کے صیاد کے ستم سے قفس سے بلبل چھڑا گئے ہیں

بقاء حسن ِ چمن کی خاطر، بہارِ رفتہ کی آرزو میں

خزاں پرستوں سے لڑتے لڑتے لہو میں اپنے نہا گئے ہیں

جہاں مقدس لہو گرا ہے وہیں نمود انقلاب کی ہے

لرز رہی ہے جفا کی شاہی وہ ایسا طوفاں اٹھا گئے ہیں

شہید کے خون سے جہاں میں فروغِ ایمان و حریت ہے

بہادری کی روایتوں سے ضمیر و غیرت جگا گئے ہیں

درندگی انتہا کو پہنچی ،بدی نے ہر ظلم آزمایا

لہو کے دھاروں پہ بہتے بہتے سفینے ساحل پہ آگئے ہیں

مٹا کے ذہنوں کی تیرگی کو شعور کو جگمگا دیا ہے

دلوں میں افزاد روشنی ہے چراغ ایسے جلا گئے ہیں

Category:

People & Blogs

Tags:

License:

Standard YouTube License

  • likes, 0 dislikes

Link to this comment:

Share to:
see all

All Comments (0)

Sign In or Sign Up now to post a comment!
Loading...

Alert icon
0 / 00Unsaved Playlist Return to active list
    1. Your queue is empty. Add videos to your queue using this button:
      or sign in to load a different list.
    Loading...Loading...Saving...
    • Clear all videos from this list
    • Learn more