Sheeshon Ka Maseeha Koi Nahi شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

Loading...

Sign in or sign up now!
Alert icon
Upgrade to the latest Flash Player for improved playback performance. Upgrade now or more info.
622 views
Loading...
Alert icon
Sign in or sign up now!
Alert icon

Uploaded by on Dec 3, 2011

Poet: Faiz Ahmed Faiz - شاعر: فیض احمد فیض
Vocalist: Faiz Ahmed Faiz & Tina Sani - کلام گو: فیض احمد فیض اور ٹینا ثانی

موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر
جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی
صد ناز سے اُترا کرتی تھی
صہبائے غمِ جاناں کی پری

پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مے تھی بہا دی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا

یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
اُن شوخ بلوریں سپنوں کے
تم مست جوانی میں جن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے

ناداری، دفتر، بھوک اور غم
ان سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چو مکھ پتھراؤ
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

یا شاید ان ذروں میں کہیں
موتی ہے تمہاری عزت کا
وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی
شمشاد قدوں نے رشک کیا

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت، رہزن بھی کئی
ہے چور نگر، یا مفلس کی
گر جان بچی تو آن گئی

یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط
چبھتے ہیں، لہو رُلواتے ہیں

تم ناحق شیشے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

یادوں کے گریبانوں کے رفو
پر دل کی گزر کب ہوتی ہے
اک بخیہ اُدھیڑا، ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے

اس کارگہِ ہستی میں جہاں
یہ ساغر، شیشے ڈھلتے ہیں
ہر شے کا بدل مل سکتا ہے
سب دامن پر ہو سکتے ہیں

جو ہاتھ بڑھے ، یاور ہے یہاں
جو آنکھ اُٹھے، وہ بختاور
یاں دھن دولت کا انت نہیں
ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ ، مگر

کب لوٹ جھپٹ سے ہستی کی
دوکانیں خالی ہوتی ہیں
یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں

کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکاتے پھرتے ہیں
ہر پربت کو، ہر ساگر کو
نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں

کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھِڑ کر
یہ پردے نوچ گراتے ہیں
ہستی کے اُٹھائی گیروں کی
ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں

ان دونوں میں رَن پڑتا ہے
نِت بستی بستی نگر نگر
ہر بستے گھر کے سینے میں
ہر چلتی راہ کے ماتھے پر

یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں
وہ جوت جگاتے رہتے ہیں
یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں
وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں

سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر
اس بازی میں بَد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں

Link to this comment:

Share to:
see all

All Comments (1)

Sign In or Sign Up now to post a comment!
  • CLASSIC :)

Loading...

Alert icon
0 / 00Unsaved Playlist Return to active list
    1. Your queue is empty. Add videos to your queue using this button:
      or sign in to load a different list.
    Loading...Loading...Saving...
    • Clear all videos from this list
    • Learn more