تحت الفظ (فردوس جمال )
(شاہنامہ اسلام جلد اول)
آنحضرت کے دادا عبدالمطلب کو خبر ملتی ہے
ั جوانی کے دنوں میں اک نرالا خواب دیکھا تھا
درختِ نسل ہاشم اس قدر شاداب دیکھا تھا
کہ اس کے سائے میں دونوں جہاں معلوم ہوتے تھے
مکان و لامکاں دو ٹہنیاں معلوم ہوتے تھے
اچانک صبح کی پہلی کرن ہنستی ہوئی آئی
مبارک باد کہہ کر یہ خبر دادا کو پہنچائی
"کہ رحمت نے تری سوکھی ہوئی ڈالی ہری کردی
تری بیوہ بہو کی گود اپنے نور سے بھر دی"
ترنم سے (آصف مہدی حسن)
وہ مقصد جس کی خاطر آپ[ ص ]اس دنیا میں آئے تھے
وہ قرآن جس کو انسانوں کی خاطرآپ[ص ]لائے تھے
وہ آقاؤں کے پھندے سے نجات اولادِ آدم کی
زمینِ صدق پر رکھنا نئی بنیاد عالم کی
اندھیرا چھاچکا تھا کفر کا دنیائے ہستی پر
کوئی شفقت نہ کرتا تھایتیموں پر غلاموں پر
یہ مرجاتے تھے بھوکے اور بک جاتے تھے داموں پر
ضعیفوں اور بیواؤں کو روٹی بھی نہ ملتی تھی
ستم سےتنگ آکر خود کشی کرلی شریفوں نے
دعا کو دستِ رعشہ دار اٹھائے تھے ضعیفوں نے
bohat pyaari selection hai yeh bhi...shukria
ahmadtaus 2 years ago