About this user
ساتھ!
****
کتنی دیر تک
املتاس کے پیڑ کے نیچے
بیٹھ کر ہم نے باتیں کیں
کچھ یاد نہیں
بس اتنا اندازہ ھے
چاند ہماری پُشت سے ھوکر
آنکھوں تک آپھنچا تھا !
(پروین شاکر)
*****
اس نے چھوما میری آنکھوں کو سحر دم اور پھر
رکھ گیا میرے سرھانے میرے خوابوں کے گلاب
کون چھوکر انھیں گزرا کہ کھلے جاتے ھیں
اتنے سرشار توپھلے نہ تھے ھونٹوں کے گلاب
دوپھر شام ھوئی، شام شب تار ھوئی
اور کھلتے رھے،کھلتےرھے باتوں کے گلاب
(پروین شاکر)
*******
خواب کیا دیکھے کوئی نیند کے انجام کے بعد
کس کو جینے کی ھوس، حشر کے ہنگام کے بعد
ایک ھی اسم کو بارش نے ھرا رکھاہے
پیڑ پہ نام تو لکھے گئے اُس نام کے بعد
********
میں نے پلکوں کو دریا پہ دستک دی
میں وہ سائل ھوں جسے کوئی صدایاد نھیں
زندگی جبر مسلسل کیطرح کاٹی ھے
جانے کس جرم کی پائی ھے سزا یاد نھیں
آؤ ! ایک سجدہ کریں عالم مدھوشی میں
لوگ کھتے ھیں کہ ساغرکو خدا یاد نھیں
(ساغر)
********
دل کے چوکٹ پہ جو ایک دیپ جلارکھاھے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجارکھاھے
روٹ جاتے ھو تو کچھ اور حسین لگتے ھو
ھم نے یہ سوچ کے تم کو خفا رکھاھے
جانے والے نے کھاتھا کہ وہ لوٹے گا ضرور
اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ھے
مجھکو کل شام سے وہ یاد بہت آنے لگے
دل نے مدت سے جو اک شخص بھلا رکھاھے
آخری بار جو آیاتھا میرے نام وصی
میں نے اس خط کو کلیجے سے لگا رکھاھے
(وصی شاہ)
********
غزل
نکتہ چین ھے،غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیابنے بات،جہاں بات بنائے نہ بنے
اس نزاکت کا بُرا ہو،وہ بھلے ہیں تو کیا
ہاتھ آویں تو انھیں ہاتھ لگائے نہ بنے
موت کی راہ نہ دیکھو? کہ بن آئے نہ رہے
تم کو چاھوں? کہ نہ آو توبلانے نہ بنے
عشق پر زور نھیں،ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
(مرزا اسداللہ خان غالب)
*******
ھر ایک شب میری تازہ عذاب میں گزری
تمہارے بعد تمارے ھی خواب میں گزری
میں اک پھول ھوں وہ مجھکو رکھ کے بھول گیا
تمام عمر اُسی کی کتاب میں گزری
******
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
جو تُو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے
میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل
غم زمانہ سے کھدو خرید لائے مجھے
******
تمہں جاناں اجازت ھے ......
تمیں جاناں اجازت ھے
کہ ان تاریک راھوں پر
تھکن سی خود میں پاؤ تو
اندھیروں سے کبھی دل ڈول جائے
تھک سی جاؤ تو
مرے جلتے ہوئے لمحے
مرے کنگال ھاتھوں سے چُھڑاکے اپنے ھاتھوں کو
فضا کی نغمگی سے تم نئے گیتوں کو چُن لینا
حسیں پلکوں کی نوکوں پر نئے خواب بُن لینا
کوئی گر پوچھ لے میرا تو اُس سے ذکرمت کرنا
مرے جیون کی جلتی دوپہرسے بےغرض ھوکر
تم اپنی چاندنی راتوں میں جگنوپالتی رہنا
مری تنہائیوں کی وحشتوں کی فکر مت کرنا
تمہیں اس کی اجازت ہے
مرے سب خط جلادینا
مرے تحفوں کو دریا میں بھانایادبادینا
میری ہر یادکودل سے کھرچنااورمٹادینا
تمہیں بالکل اجازت ہے
کہ جب چاہوبُھلانا دینا
مگر اتنی گزارش ہے
اگرایسا نہ ھوجاناں
تواچھاھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وصی شاہ کی کتاب
"آنکھیں بھیگ جاتی ہیں"
سے ماخوذ
*******
قطعه
خوچی راشی نیمه شپه کښ ، ستا لشې لشې یادونه
دآسمان ستوروته ګورم ، رانه اوتښتی خوبونه
په آسمان کښ راته ښکارې ،هم په ستورو اوسپوږمۍ کښ
ماته ستا محفل ښکاریږی ، دادستورومحفلونه
ظفرخان مردان
Age
38
Hometown
Mardan
Country
Pakistan
Occupation
Graphics Designer
Companies
Zafar GrafX Mardan
Schools
GHS Haryan Kot Malakand Agency
Interests
Graphics Designing