آپ نے فرمایا کہ ملت ایران ان ممالک جو امریکہ کی طرح بغض و عناد کے تحت ایٹمی حقوق اور اس عظیم کامیابی کی مخالفت کرتے ہیں، اور ان ممالک کے درمیان جو ملت ایران اور اس کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، اس کی ریڈ لائن کا پاس و لحاظ کرتے ہیں اور اس سے مذاکرات کے خواہاں ہیں، فرق رکھے جانے کی قائل ہے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یورپ کے ساتھ مذاکرات کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی رضامندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مذاکرت میں اسی صورت میں پیشرفت ہوگی جب دھونس اور دھمکی کی فضا اسے متاثر نہ کرے۔ یورپیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ (مذاکرات میں) ان کے مد مقابل ملت ایران ہے۔ یہ وہ غیور قوم ہے جسے دھمکی کی زبان تو قطعی نا پسند ہے اور یہ کبھی کسی دھونس میں آنے والی نہیں ہے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس بات پر تاکید فرمائی کہ ملک کے حکام ایٹمی مسئلے میں بڑی سوجھ بوجھ اور دانشمندی کےساتھ فیصلے کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایٹمی مسئلے کو اعلی قومی سلامتی کونسل آگے بڑھا رہی ہے جس کے سربراہ صدر محترم ہیں۔ جو کچھ بھی صدر اور دیگر حکام کی جانب سے ایٹمی مسئلے میں اعلان کیا جا رہا ہے اس پر تمام حکام کا اتفاق رای ہے اور مجریہ و مقننہ و عدلیہ اسی طرح اعلی قومی سلامتی کونسل میں قائد انقلاب کے نمایندے پوری توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں۔