Sort by time | Sort by thread (beta)

Link to this comment:

Share to:

All Comments (7)

Sign In or Sign Up now to post a comment!
  • اقبال نے اس نظم میں ایک بچے کے لیے جو نصب العین متعین کیا ہے وہ ایک مطلوب و مقصود مومن کے لیے اساس کا حکم رکھتا ہے ،اب اس بحث میں پڑے بغیر کے یہ خالصتا اقبال کی اپنی صلاحیتوں کا مظہر ہے یا کسی مغربی شاعر کی تخیل کا آزادانہ ترجمہ ،ہمیں اس کی معنویت اور پیغام کو سمجھنے اور عمل کرنے پر زور دینا چاہیے۔

  • Beautiful

  • یہ نظم مٹیلڈا بینتھم ایڈورڈس کی نظم

    Childs Hymn

    کا آزاد ترجمہ ہے۔ بقول ڈاکٹر اکبر ھسین قریشی انگریزی نظم زیادہ متصل اور متنوع ہے اور اس میں پیکر نگاری زیادہ دلکش اور بلیغ ہے۔ خاص کر آخری بند میں شاعر نے پوری نظم کو سمو دیا ہے۔ اقبال کی نظم مختصر ہے ۔ اصل نظم پانچ بند پر مشتمل ہے۔

  • ایک ایک بند میں بچہ دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی علی الترتیب روشی، پھول، راگ، عصا، اور دعائیہ نظم کے مانند ہو۔ اقبال نے ترجمہ کرتے ہوئے اصل نظم کے دو بند کی حد تک پابندی کی ہے اور دعا کی ہے کہ زندگی "شمع کی صورت" اور پھول کی مانند زینت دینے والی ہو۔

  • پھر وہ اصل سے ہٹ کر زندگی مثل پروانہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔

    زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب

    اقبال ترجمہ میں زندگی کو راگ، عصا اور دعائیہ نظم سے مما ثلت دینے کا حصہ کا ترجمہ نہیں کرتے۔

  • Ameen! Very beautiful dua and presentation! Thanks Tauseef for sending and Iqbal Academy for uploading.

  • Subhaan Allah

    Kiya khoob Dua hai aor us ko behtareen Andaz main pesh kiya gaya hai..

    nice tableau..thanks a lot brother Noman for uploading and Iqbal academy for creating :)

Loading...
Alert icon
0 / 00Unsaved Playlist Return to active list
    1. Your queue is empty. Add videos to your queue using this button:
      or sign in to load a different list.
    Loading...Loading...Saving...
    • Clear all videos from this list
    • Learn more