@toskyfly ساقی نامہ از بال جبریل گلوکار: جنون زمانے کے انداز بدلے گئے نيا راگ ہے ، ساز بدلے گئے خرد کو غلامي سے آزاد کر جوانوں کو پيروں کا استاد کر جگر سے وہي تير پھر پار کر تمنا کو سينوں ميں بيدار کر جوانوں کو سوز جگر بخش دے مرا عشق ، ميري نظر بخش دے پلا دے مجھے وہ مےء پردہ سوز کہ آتي نہيں فصل گل روز روز وہ مے جس سے روشن ضمير حيات وہ مے جس سے ہے مستي کائنات
Very nice ..................
toskyfly 1 year ago
toskyfly 1 year ago