سپین میں چھٹی صدی ہجری کے ممتاز مفسر اور پیشوائے طریقت حضرت محی الدین ابن عربی (۱۱۶۵ء ۔ ۱۲۴۰ء) فرماتے ہیں۔
’جب امام مہدی دینا میں ظاہر ہوگا تو علمائے ظاہر سے بڑھ کر ان کا کوئی کھلا دشمن نہیں ہوگا۔ کیونکہ مہدی کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ جاتا رہے گا۔ ‘ (فتوحات مکیہ جلد ۳ صفحہ ۳۳۶)
’امام مہدی جو اتباع سنت محمدی ﷺ کے تبلیغی مشن پر آئیں گے وہی کچھ فرمائیں گے جو اہل سنت و الجماعت کے عقائد صحیحہ میں موجود ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ مسلمانوں کا کوئی خاص فرقہ ان کو اپنے ڈھب کا نہ پاکر یہودیوں کی طرح جو پیغمبر آخرالزماں کے انتظار میں تھے اور پھر ان سے برگشتہ ہوگئے تھے ، ایسے ہی وہ فرقہ امام مہدی سے برگشتہ ہوجائے۔‘ (انوار النجوم صفحہ ۱۰۰)
اہل حدیث کے مسلمہ بزرگ نواب صدیق حسن خاں (۱۸۳۲ء ۔ ۱۸۸۹ء) لکھتے ہیں ۔ ’چونکہ مہدی علیہ السلام سنت کے احیاء اور بدعت کے انسداد کیلئے جہاد کریں گے علماء وقت جو فقہا کی تقلید اور مشائخ اور اپنے باپ دادوں کی پیروی کے عادی ہوں گے کہیں گے کہ یہ شخص دین اور ملت کی بنیادوں کو برباد کرنے والا ہے اور اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی عادت کے مطابق اس کی تکفیر اور گمراہی کے فتوے جاری کریں گے۔ ‘ (حجج الکرامہ صفحہ ۳۶۳)
عالم اسلام کے مشہور عالم اور دیوبند اکابر کے روحانی پیشوا حافظ شاہ محمد امداداللہ مہاجر مکی (۱۸۱۸ء ۔ ۱۸۹۹ء) نے فرمایا۔
’ ظہور امام مہدی آخر الزماں کے ہم سب لوگ شائق ہیں مگر وہ زمانہ امتحان کا ہے اور اوّل اوّل ان کی بیعت اہل باطن اور ابدال شام بقدر ۳۱۳ اشخاص کے کریں گے اور اکثر لوگ منکر ہوجائیں گے۔ ‘ (شمائم امدادیہ مع اردو ترجمہ نفحات مکیہ صفحہ ۱۰۲)
نواب صدیق حسن خان کے بیٹے مولوی نورالحسن خان نے لکھا ۔
’ اگر امام مہدی آگئے تو سارے مقلدبھائی ان کے جانی دشمن بن جائیں گے ان کے قتل کی فکر میں ہوں گے ۔ کہیں گے یہ شخص تو ہمارے دین کو بگاڑتا ہے۔ ‘ (اقتراب الساعۃ صفحہ ۲۲۴ مطبوعہ ۱۳۲۲ھ)
امامیہ مکتبہ فکر کے فاضل نے مہدی موعود کی نسبت بتایا کہ ۔
’ علماء اس کے قتل کے فتوے دیں گے اور بعض اہل دول اس کے قتل کے لئے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تمام نام کے مسلمان ہوں گے۔ ‘ (الصراط السوی فی احوال المہدی صفحہ ۵۰۷)
شیعہ لٹریچر میں دو تین ہزار علماء کا امام مہدی پر کفر کا فتویٰ لگانا ثابت ہے۔ شیعہ رسالہ ’البشر‘ لکھتا ہے ۔ ’امت میں سب سے پہلے علماء و امراء کے لئے گمراہی کی پیشگوئیاں مذہبی معلوم ریکارڈ میں موجود ہیں ۔ تین سو یادوسری روایت میں تین ہزار علماء کا حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کی تلوار سے قتل ہونا مسلمات میں سے ہے۔ جو حضور علیہ السلام پر نیا دین پیش کرنے اور گمراہی پھیلانے کا فتویٰ دیں گے۔ ‘ (’البشر‘ لاہور، اپریل مئی ۱۹۷۶ء صفحہ ۲۰)
1974 ء کی اسمبلی میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کا فیصلہ دراصل گستا خی ء رسول ہے۔ یہ فیصلہ فرمان آنحضرتؐ کے بالکل برعکس ہے۔ جن لوگوں نے اس فیصلہ پر دستخط کیئ یا حمایت کی۔ ان کا رسول کریم ؐسے اب کوئی تعلق نہیں۔ ان کا رسول ذوالفقار علی بھٹو ہے ۔ ان کو زیادہ سے زیادہ سرکاری مسلمان کہہ لیں۔ جو حدیث کے الفاظ پر قائم رہے اوراس فیصلہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ وہ محمدی مسلمان۔ دونوں گروہ اب اس کے مطابق سزا اور جزا لیتے جائیں گے جب تک کہ توبہ واستغفار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو منسوخ نہیں کیا جاتا۔
محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں: ۔ کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر سوائے علماء کے اُن کا کوئی کھلا کھلا دشمن نہیں ہو گا۔ یعنی علماء ہی خصوصیت سے مخالفت کریں گے۔ (فتوحات مکیہ، جلد 3 ،صفحہ 336 )
رسول کریم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی بھی امام (مہدی پر ایمان لانے) کے بغیر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
( مسند احمد بن حنبل، جلد 4 زیر عنوان حدیث معاویہ بن ابی سفیان ، صفحہ 96 )
فیصلہ کونساچلے گا : رسولِ کریم ؐ کا یا شرابی اسمبلی کا ؟ تمام فرقہ کے علماء نے تحریری طور پر دستخط کر کے ۔ کیاآنحضرتؐ کے فیصلہ کی سخت توہین نہیں کی۔پھر فیصلہ کے دن سے خدا تعالیٰ کاپاکستان سے پیار کا سلوک ہے یا سخت ناراضگی کا۔یہ سوال دردِ مند دل رکھنے والے ہر پاکستانی سے ہے نہ کہ جاہل سے۔
آنحضرتؐ نے فرمایا :۔ 72 فرقے جہنمی(کافر) اور ایک ناجی ۔
1974 کی اسمبلی پاکستان (بشمول علماء تمام فرقہ)کا فیصلہ:۔72 ناجی(جنتی) اور ایک جہنمی (کافر
Hadhrat Molana Khurabman sab eik sawal ha bot asan jis ke aap montzir hain oss ki kiya nishaniya hai
aap onhain kiss terha pehchane gae ?woh kab kaha kis waqat kiya naam hoga ??
bot asan sa sajawab dena Galia mat likhna
zubairgermany2 1 month ago
حضرت ابن عربی
سپین میں چھٹی صدی ہجری کے ممتاز مفسر اور پیشوائے طریقت حضرت محی الدین ابن عربی (۱۱۶۵ء ۔ ۱۲۴۰ء) فرماتے ہیں۔
’جب امام مہدی دینا میں ظاہر ہوگا تو علمائے ظاہر سے بڑھ کر ان کا کوئی کھلا دشمن نہیں ہوگا۔ کیونکہ مہدی کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ جاتا رہے گا۔ ‘ (فتوحات مکیہ جلد ۳ صفحہ ۳۳۶)
zubairgermany2 1 month ago
محمد قاسم نانوتوی
فرقہ دیوبند کے پیشوا مولانا محمد قاسم نانوتوی (۱۸۳۱ء ۔ ۱۸۷۹ء) نے یہ پیش گوئی فرمائی۔
’ امام مہدی علیہ السلام چونکہ سراپا کلام اللہ کے موافق ہوں گے اس لئے کروڑوں لوگ مہدی سے روگردانی کریں گے۔ ‘ (قاسم العلوم ، صفحہ ۱۱۵)
zubairgermany2 1 month ago
پھر لکھتے ہیں۔
’امام مہدی جو اتباع سنت محمدی ﷺ کے تبلیغی مشن پر آئیں گے وہی کچھ فرمائیں گے جو اہل سنت و الجماعت کے عقائد صحیحہ میں موجود ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ مسلمانوں کا کوئی خاص فرقہ ان کو اپنے ڈھب کا نہ پاکر یہودیوں کی طرح جو پیغمبر آخرالزماں کے انتظار میں تھے اور پھر ان سے برگشتہ ہوگئے تھے ، ایسے ہی وہ فرقہ امام مہدی سے برگشتہ ہوجائے۔‘ (انوار النجوم صفحہ ۱۰۰)
zubairgermany2 1 month ago
نواب صدیق حسن خاں
اہل حدیث کے مسلمہ بزرگ نواب صدیق حسن خاں (۱۸۳۲ء ۔ ۱۸۸۹ء) لکھتے ہیں ۔ ’چونکہ مہدی علیہ السلام سنت کے احیاء اور بدعت کے انسداد کیلئے جہاد کریں گے علماء وقت جو فقہا کی تقلید اور مشائخ اور اپنے باپ دادوں کی پیروی کے عادی ہوں گے کہیں گے کہ یہ شخص دین اور ملت کی بنیادوں کو برباد کرنے والا ہے اور اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی عادت کے مطابق اس کی تکفیر اور گمراہی کے فتوے جاری کریں گے۔ ‘ (حجج الکرامہ صفحہ ۳۶۳)
zubairgermany2 1 month ago
امدادللہ مہاجر مکی
عالم اسلام کے مشہور عالم اور دیوبند اکابر کے روحانی پیشوا حافظ شاہ محمد امداداللہ مہاجر مکی (۱۸۱۸ء ۔ ۱۸۹۹ء) نے فرمایا۔
’ ظہور امام مہدی آخر الزماں کے ہم سب لوگ شائق ہیں مگر وہ زمانہ امتحان کا ہے اور اوّل اوّل ان کی بیعت اہل باطن اور ابدال شام بقدر ۳۱۳ اشخاص کے کریں گے اور اکثر لوگ منکر ہوجائیں گے۔ ‘ (شمائم امدادیہ مع اردو ترجمہ نفحات مکیہ صفحہ ۱۰۲)
zubairgermany2 1 month ago
نورالحسن خان
نواب صدیق حسن خان کے بیٹے مولوی نورالحسن خان نے لکھا ۔
’ اگر امام مہدی آگئے تو سارے مقلدبھائی ان کے جانی دشمن بن جائیں گے ان کے قتل کی فکر میں ہوں گے ۔ کہیں گے یہ شخص تو ہمارے دین کو بگاڑتا ہے۔ ‘ (اقتراب الساعۃ صفحہ ۲۲۴ مطبوعہ ۱۳۲۲ھ)
zubairgermany2 1 month ago
مولوی عبدالغفور
’مہدی اپنے احکام و فیصلوں میں علماء زمانہ کے خیالات کی مخالفت کرے گا جس سے وہ ناراض ہوجائیں گے۔ ‘ (النجم الثاقب جلد اوّل صفحہ ۸۶)
zubairgermany2 1 month ago
سید محمد سطبین السرسوی
امامیہ مکتبہ فکر کے فاضل نے مہدی موعود کی نسبت بتایا کہ ۔
’ علماء اس کے قتل کے فتوے دیں گے اور بعض اہل دول اس کے قتل کے لئے فوجیں بھیجیں گے اور یہ تمام نام کے مسلمان ہوں گے۔ ‘ (الصراط السوی فی احوال المہدی صفحہ ۵۰۷)
zubairgermany2 1 month ago
سید محمد عباس زیدی
شیعہ عالم سید محمد عباس زیدی الواسطی تحریر فرماتے ہیں کہ
’پہلے تو فقہائے عالم ہی برنبائے عدم معرف اس جناب کے (یعنی مہدی کے) قتل کا فتویٰ دیں گے۔ ‘ (آثار قیامت و ظہور حجت حصہ دوم صفحہ ۵۹)
zubairgermany2 1 month ago
شیعہ رسالہ ۔ ’البشر‘ لاہور
شیعہ لٹریچر میں دو تین ہزار علماء کا امام مہدی پر کفر کا فتویٰ لگانا ثابت ہے۔ شیعہ رسالہ ’البشر‘ لکھتا ہے ۔ ’امت میں سب سے پہلے علماء و امراء کے لئے گمراہی کی پیشگوئیاں مذہبی معلوم ریکارڈ میں موجود ہیں ۔ تین سو یادوسری روایت میں تین ہزار علماء کا حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام کی تلوار سے قتل ہونا مسلمات میں سے ہے۔ جو حضور علیہ السلام پر نیا دین پیش کرنے اور گمراہی پھیلانے کا فتویٰ دیں گے۔ ‘ (’البشر‘ لاہور، اپریل مئی ۱۹۷۶ء صفحہ ۲۰)
zubairgermany2 1 month ago
1974 ء کی اسمبلی میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کا فیصلہ دراصل گستا خی ء رسول ہے۔ یہ فیصلہ فرمان آنحضرتؐ کے بالکل برعکس ہے۔ جن لوگوں نے اس فیصلہ پر دستخط کیئ یا حمایت کی۔ ان کا رسول کریم ؐسے اب کوئی تعلق نہیں۔ ان کا رسول ذوالفقار علی بھٹو ہے ۔ ان کو زیادہ سے زیادہ سرکاری مسلمان کہہ لیں۔ جو حدیث کے الفاظ پر قائم رہے اوراس فیصلہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ وہ محمدی مسلمان۔ دونوں گروہ اب اس کے مطابق سزا اور جزا لیتے جائیں گے جب تک کہ توبہ واستغفار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو منسوخ نہیں کیا جاتا۔
apnibasirat 1 month ago
@apnibasirat یہ فیصلہ الحمد لللہ مرزایوں کو جہنمی ثابت کرنے کا ہے اور اس میں ہم کامیاب گۓ کیونکہ مرزا گاما پہلے ہی جہنم رسید ہوچکا تھا
Kurabyman 1 month ago
This has been flagged as spam show
محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں: ۔ کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر سوائے علماء کے اُن کا کوئی کھلا کھلا دشمن نہیں ہو گا۔ یعنی علماء ہی خصوصیت سے مخالفت کریں گے۔ (فتوحات مکیہ، جلد 3 ،صفحہ 336 )
رسول کریم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی بھی امام (مہدی پر ایمان لانے) کے بغیر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
( مسند احمد بن حنبل، جلد 4 زیر عنوان حدیث معاویہ بن ابی سفیان ، صفحہ 96 )
finaltrueislam 7 months ago
This has been flagged as spam show
فیصلہ کونساچلے گا : رسولِ کریم ؐ کا یا شرابی اسمبلی کا ؟ تمام فرقہ کے علماء نے تحریری طور پر دستخط کر کے ۔ کیاآنحضرتؐ کے فیصلہ کی سخت توہین نہیں کی۔پھر فیصلہ کے دن سے خدا تعالیٰ کاپاکستان سے پیار کا سلوک ہے یا سخت ناراضگی کا۔یہ سوال دردِ مند دل رکھنے والے ہر پاکستانی سے ہے نہ کہ جاہل سے۔
آنحضرتؐ نے فرمایا :۔ 72 فرقے جہنمی(کافر) اور ایک ناجی ۔
1974 کی اسمبلی پاکستان (بشمول علماء تمام فرقہ)کا فیصلہ:۔72 ناجی(جنتی) اور ایک جہنمی (کافر
finaltrueislam 1 year ago