نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے(بالِ جبریل) نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے! بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے! فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے
کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!
خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے
csmukhtar 1 year ago
csmukhtar 1 year ago
kisay nahi hai tamnna-e-sarwari lakin
khudi ki maut ho jis main woh sarwari kiaya hai
kaash sirf is nuktay ko hamaray hukmran samjh lain..
tauseefqau 2 years ago